سو[2]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بدی، خرابی، بُرائی۔ "بڑی تبدیلی کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر سوءِ مزاجی اور نااتفاقی اور انواع و اقسام کے جھگڑے برپا ہونے لگتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩٠٤ء کو "مقدمۂ ابن خلدون" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بدی، خرابی، بُرائی۔ "بڑی تبدیلی کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر سوءِ مزاجی اور نااتفاقی اور انواع و اقسام کے جھگڑے برپا ہونے لگتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠٢ )

اصل لفظ: سوء